جاؤں جس سمت اِجازت ہے مجھے

جاؤں جس سمت اِجازت ہے مجھے
دشت میں کتنی سہولت ہے مجھے

اُن مکینوں کا سلوک اپنی جگہ
در و دیوار پہ حیرت ہے مجھے

تم بھی مصروف نظر آتے ہو
میں بھی چلتا ہوں کہ عجلت ہے مجھے

میں ہَوا میں جو اُڑا پھرتا ہوں
غالباً خاک سے نسبت ہے مجھے

یاد رکھتا ہوں جہاں لوگوں کو
بھول جانے کی بھی عادت ہے مجھے

کام کچھ آن پڑا ہے ایسا
ورنہ کیا دل کی ضرورت ہے مجھے

زندگی تجھ سے ترے بارے میں
پوچھ سکتا ہوں اِجازت ہے مجھے؟

کاشف حسین غائر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا