مت آنکھ ہمیں دیکھ کے یوں مار دیا کر

مت آنکھ ہمیں دیکھ کے یوں مار دیا کر
غمزے ہیں بلا ان کو نہ سنکار دیا کر

آئینے کی مشہور پریشاں نظری ہے
تو سادہ ہے ایسوں کو نہ دیدار دیا کر

سو بار کہا غیر سے صحبت نہیں اچھی
اس جیف کو مجلس میں نہ تو بار دیا کر

کیوں آنکھوں میں سرمے کا تو دنبالہ رکھے ہے
مت ہاتھ میں ان مستوں کے تلوار دیا کر

کچھ خوب نہیں اتنا ستانا بھی کسو کا
ہے میر فقیر اس کو نہ آزار دیا کر

میر تقی میر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی