مصائب کو چھپانا جانتا ہے

مصائب کو چھپانا جانتا ہے
یہ لڑکا مسکرانا جانتا ہے

تجھے وہ حور بھی لکھتا رہا ہے
قلابوں کو ملانا جانتا ہے

انا کو قتل کر دیتا ہے اپنی
وہ روٹھوں کو منانا جانتا ہے

تمہیں تو ہم اکیلے جانتے ہیں
ہمیں سارا زمانہ جانتا ہے

تعلق ختم کر ڈالا ہے جس نے
روابط کو نبھانا جانتا ہے

عاجز کمال رانا

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر