یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہے

یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہے
سو اس کے جانے پہ دل مرا مجھ سے مشتعل ہے

خصوصی باتیں جو شاعری کی ہیں ایک ان میں
یہ خون پیتی ہے اور پیتی بھی مستقل ہے

ہمارا ہر دن کتاب کا ایک باب ہے اور
کتاب وحشت کی داستانوں پہ مشتمل ہے

ہے ایک خواہش کہ بہتے پانی میں جو ہے مضمر
ہے ایک حسرت کہ جو کناروں سے منفصل ہے

کسی نے سب کا نصیب لکھا ہے اور عاجزؔ
ہماری قسمت میں شاعری ہے جو جاں گسل ہے

عاجز کمال رانا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی