مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا

مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا
تو کہاں آ کے عناں گیر ہوا

کام دنیا کا ہے تیر اندازی
ہم ہوئے یا کوئی نخچیر ہوا

سنگ بنیاد ہیں ہم اس گھر کا
جو کسی طرح نہ تعمیر ہوا

سفر شوق کا حاصل معلوم
راستہ پاؤں کی زنجیر ہوا

عمر بھر جس کی شکایت کی ہے
دل اسی آگ سے اکسیر ہوا

کس سے پوچھیں کہ وہ انداز نظر
کب تبسم ہوا کب تیر ہوا

کون اب داد سخن دے باقیؔ
جس نے دو شعر کہے میر ہوا

باقی صدیقی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا