مکان، عشق نے ایسی جگہ بنا لیا تھا

مکان، عشق نے ایسی جگہ بنا لیا تھا
کہ مجھ کو گھر سے نکلتے ہی اُس نے آ لیا تھا

میں جانتا تھا کہ ضدی ہے پرلے درجے کا
سو، ہار مان کے میں نے اسے منا لیا تھا

یہ میرا دل ہے مگر میری مانتا ہی نہیں
گذشتہ رات اسے میں نے آزما لیا تھا

خبر ملی مجھے جیسے ہی اُس کے آنے کی
نگاہ در پہ رکھی، اور دیا جلا لیا تھا

جو دل کا حال تھا، ہم نے بڑے سلیقے سے
غزل بہانہ کیا اور اُسے سنا لیا تھا

اک ایسی بات، حَسَن! کہہ دی آئنے نے مجھے
کہ اُس کو توڑ کے خود کو گلے لگا لیا تھا

حسن عباس رضا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے