میں خود سے پوچھ رہی تھی،کہاں گئے مرے دن

میں خود سے پوچھ رہی تھی،کہاں گئے مرے دن
مجھے خبر ہی نہ تھی رائگاں گئے مرے دن

گئے ہیں وحشت صحرا سمیٹنے کے لیے
کہ سوئے بزم و سر گلستان گئے مرے دن

بہت اداس نہ ہو دل شکستگی سے مری
مرے حبیب،مرے راز داں ! گئے مرے دن

خدا کرے کوئی جوئے مراد سامنے ہو
بدوش گرد رہ کارواں گئے مرے دن

کوئی نگاہ، کوئی دل، نہ کوئی حرف سپاس
نہیں تھا کوئی بھی جب پاسباں ،گئے مرے دن

بہت سے لوگ گلی کا طواف کرتے تھے
بس اس قدر ہے مری داستاں،گئے مرے دن

ثمینہ راجہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے