مہینوں بعد دفتر آ رہے ہیں

مہینوں بعد دفتر آ رہے ہیں
ہم اک صدمے سے باہر آ رہے ہیں

تیری باہوں سے دل اکتا گیا ہے
اب اس جھولے میں چکر آ رہے ہیں

سمندر کر چکا تسلیم ہم کو
خزانے خود ہی اوپر آ رہے ہیں

کہاں سویا ہے چوکیدار میرا
یہ کیسے لوگ اندر آ رہے ہیں

یہی اک دن بچا تھا دیکھنے کو
اُسے بس میں بٹھا کر آ رہے ہیں

تہذیب حافی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا