لہجہ نجانے کیوں ذرا بھیگا لگا مجھے

لہجہ نجانے کیوں ذرا بھیگا لگا مجھے
اب درد بولنے لگا، ایسا لگا مجھے

شامل تھا اسکے غصے میں اپنائیت کا رنگ
اس دن خفا خفا سا وہ اچھا لگا مجھے

گہرائیوں سے عشق، سمندر سے پیار ہے
اونچائیوں سے واسطہ بے جا لگا مجھے

دکھ درد سونپ دیتی ہوں اشکوں کے ساتھ ساتھ
اے دوست تیرا شانہ بھی تکیہ لگا مجھے

چہرہ بدل گیا ہے یا پہچان کھو گئی
جو عکس آئنے میں تھا کس کا لگا مجھے

جسکو انا پہ زعم، اصولوں پہ ناز تھا
وہ شخص بھیڑ میں بھی اکیلا لگا مجھے

خوشبو کی طرح دل کو بھی چھو کر گزر گیا
احساس دلفریب تھا تم سا لگا مجھے

شہلاخان

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے