لمحوں کے پیچھے چلتا یہ لمحہ لگا ہوا

لمحوں کے پیچھے چلتا یہ لمحہ لگا ہوا
پیچھے مرے ہے میرا ہی وعدہ لگا ہوا

پھر سے بچھڑ نہ جائے کوئی زندگی میں اب
ہر وقت ہے مجھے یہی دھڑکا لگا ہوا

تم چاہتے ہو آ جائے تم کو ابھی سے صبر
مجھ کو یہ سیکھنے میں ہے عرصہ لگا ہوا ہے

عاشق بیان عشق کی رمزیں کرے گا خاک
مُلّا کا اس پہ سخت ہے فتویٰ لگا ہوا

اُس کے لیے دعا تو نمازوں میں فرض ہے
جس قبر پر نہیں کوئی کتبہ لگا ہوا

آنکھیں سنا رہی ہیں سبھی داستانِ غم
ہونٹوں پہ گرچہ چُپ کا ہے پہرا لگا ہوا

چوری کا پہرے دار پہ الزام نہ دٙھرو
چوروں سے اس کا ویسے ہے ہفتہ لگا ہوا

خالؔد درندے اپنے ہی جنگل میں مست ہیں
بندوں کے پیچھے آج ہے بندہ لگا ہوا

اویس خالؔد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے