لہو اشکوں میں مِلنے دو

لہو اشکوں میں مِلنے دو، انہیں خُونناب ہونے دو
ہماری چشمِ گریاں کو ذرا تالاب ہونے دو

ابھی تک ذہن و دل پر جس کی یادوں کا بسیرا ہے
اُسے تو بھول جانے دو، اُسے تو خواب ہونے دو

نہ کاٹو پھول ندیا کے کناروں پر اُگے ہیں جو
مِرے چشموں کے پانی کو ذرا *مشکاب* ہونے دو

ابھی تو سُرمئی سی شام اُتری ہے دریچوں میں
ستارہ جیب میں رکھو، اسے مہتاب ہونے دو

ابھی سے خوابِ وصلِ یار دکھلاو نہیں عُظمی
جسے ہے فخرِ ضبطِ غم، اسے بیتاب ہونے دو

عُظمی جٙون

Related posts

مردانگی

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

پروفیسر محمد فرید

1 تبصرہ

احمد رضا دسمبر 11, 2025 - 6:43 صبح
بہت اعلیٰ عظمی بھائی 🌹
Add Comment