کچھ بھی پایا نہ درد سر کے سوا

کچھ بھی پایا نہ درد سر کے سوا
گئے جس در پہ تیرے در کے سوا

یوں پریشاں ہیں جیسے حاصل شب
آج کچھ اور ہے سحر کے سوا

کس کے در پر صدا کریں جا کر
وا نہیں کوئی اپنے در کے سوا

کل تو سب کچھ تھی آپ کی آمد
آج کچھ بھی نہیں خبر کے سوا

وائے ہنگامہ جیسے کچھ بھی نہیں
کارواں شور رہگزر کے سوا

یہ نشیمن یہ گلستاں باقیؔ
اور سب کچھ ہے بال و پر کے سوا

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے