کریں چراغاں

کریں چراغاں

چراغ گل کر دے گئے
ہیں جہاں جہاں بھی
وہاں جہاں مسکراتے آنگن میں
جیسے جگنو چمک رہے تھے
جہاں ستاروں کی روشنی میں
در ودریچے دمک رہے تھے
مگر وہ گھر وہ دریچے آنگن کہی
برس سے ہیں زیر ماتم
مکین سے خوشیوں کب کے محروم
ہوچکے ہیں وہ اپنے گل کو نہ بھول پائیں
مگر یہ ہی شب لکھے گۓ گئے تھے
تمام ہجر وصال قصے
چلو یہ شب ہم بھی گزارا کریں
کہ ہم سے بچھڑے گلوں کو یہ خبر ھو
کہ وہ ہمارے دل وجگر میں مہک رہے ہیں

خدیجہ آغا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے