کون جنوں کی اصل کو پہنچے

کون جنوں کی اصل کو پہنچے کس پہ کھلے ہنگام مرا
اشک سے کیسے بھانپ سکو گے خون میں ہے کہرام مرا

کوئی تو ساعت گزرے جس میں دو تہذیبیں وصل کریں
کھینچ لوں میں زُنّار بدن پر باندھ لے تو احرام مرا

آیا ہوں بازار میں بکنے میں خود اپنی مرضی سے
ورنہ کس میں دم ہے اتنا کون لگائے دام مرا

ہرے بھرے انسان کو کیسے ہجر کی آگ نے زرد کیا
اب بھی عشق کرے گا پیارے! دیکھ تو لے انجام مرا

بچ کے کہاں جائو گے آخر تم اتنے چالاک نہیں
دشت کے چپے چپے پر تو بچھا ہوا ہے دام مرا

چھوڑ گزشتہ عہد کی باتیں کون مرا اور کون جیا
مجھ سے مل مَیں عہدِ رواں ہوں اورنگزیبؔ ہے نام مرا

اورنگ زیبؔ

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل