کوئی سمجھے تجھے نا مہرباں کیوں

کوئی سمجھے تجھے نا مہرباں کیوں
مگر تجھ سے ہے دنیا بدگماں کیوں

کوئی تو بات ہے اظہار غم میں
وگرنہ لڑکھڑاتی ہے زباں کیوں

ابھرتا ہے یہیں سے ہر تلاطم
بلندی سے خفا ہیں پستیاں کیوں

جو اپنی رہگزر سے آشنا ہو
وہ دیکھے نقش پائے رہرواں کیوں

اداسی منزلوں کی کہہ رہی ہے
ادھر سے کوئی گزرے کارواں کیوں

مسافر کوئی شاید لٹ گیا ہے
چراغ راہ دے اٹھا دھواں کیوں

جہاں تیری نطر ہو کار فرما
وہاں باقیؔ رہے میرا نشاں کیوں

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے