کوئی جواز گناہ و ثواب بھی دیتا

کوئی جواز گناہ و ثواب بھی دیتا
میں عمر جیتا تو اپنا حساب بھی دیتا

کوئی گھروندہ تھا جو بہہ گیا ہے لہروں میں
چٹان ہوتا تو کوئی جواب بھی دیتا

اگر چراغ کی بے حرمتی نہ کرتے تم
خدا ضرور تمہیں آفتاب بھی دیتا

جو لے گیا ہے مری وحشتوں بھری آنکھیں
وہ مانگتا تو اسے اپنے خواب بھی دیتا

اگر نہ کرتا وہ بنیاد کھوکھلی عثمان
میں اس کو سایہ بھی دیتا حجاب بھی دیتا

عثمان اقبال خان

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے