کوئی دن کا آب و دانہ اور ہے

کوئی دن کا آب و دانہ اور ہے

پھر چمن اور آشیانہ اور ہے

ہاں دل بے تاب چندے انتظار

امن و راحت کا ٹھکانہ اور ہے

شمع پھیکی رات کم محفل اداس

اب مغنی کا ترانہ اور ہے

اے جوانی تو کہانی ہو گئی

ہم نہیں وہ یا زمانہ اور ہے

جس کو جان زندگانی کہہ سکیں

وہ حیات جاودانہ اور ہے

جس کو سن کر زہرۂ سنگ آب ہو

آہ وہ غمگیں فسانہ اور ہے

وا اگر سمع رضا ہو تو کہوں

ایک پند مشفقانہ اور ہے

اتفاقی ہے یہاں کا ارتباط

سب ہیں بیگانے یگانہ اور ہے

اسماعیلؔ میرٹھی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا