کتنے سورج تراشے مگر

کتنے سورج تراشے مگر مہرباں دن نہیں بن سکا
چھ دنوں کی مشقت سے بھی ساتواں دن نہیں بن سکا
شب زدو ! ہم غلط ہی سہی روشنی کی طلب میں تو ہیں
کم سے کم اس تڑپ میں تو ہیں کیوں یہاں دن نہیں بن سکا
دن بنانے کی دھن میں اسے دن بنانے کی لت لگ گئی
شکر کیجئے کہ اس سے کوئی جاوداں دن نہیں بن سکا
دل کا شعلہ بھی ہونٹوں پہ لا تاکہ میں یہ نہ کہتا پھروں
اس افق پر شفق خوب تھی پر وہاں دن نہیں بن سکا
بس یہ سننے کو ہم عمر بھر صبح بیدار ہوتے رہے
اب فلاں دن بنے گا وہ دن جو فلاں دن نہیں بن سکا
ہم پہ جغرافیہ کا سوال اس طرح سے بنایا گیا
ایسے لوگوں کے بارے لکھیں جن کے ہاں دن نہیں بن سکا
دو گھڑی وہ اچانک ملا اور کہنے لگا سرفراز
اب نہ کہنا کبھی رات کے درمیاں دن نہیں بن سکا

سرفراز آرش

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے