کسی نے نہ دریا کے اسرار کھولے

کسی نے نہ دریا کے اسرار کھولے
تلاطم بھی آئے سفینے بھی ڈولے

زمانے کا ہے کام تقلید کرنا
مرے ساتھ ہولے، ترے ساتھ ہولے

دیا ہے یہ صیاد نے حکم باقیؔ
قفس میں کوئی پر بھی اپنے نہ تولے

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے