کیا بتائیں فصل بے خوابی یہاں بوتا ہے کون

کیا بتائیں فصل بے خوابی یہاں بوتا ہے کون

جب در و دیوار جلتے ہوں تو پھر ہوتا ہے کون

تم تو کہتے تھے کہ سب قیدی رہائی پا گئے

پھر پس دیوار زنداں رات بھر روتا ہے کون

بس تری بیچارگی ہم سے نہیں دیکھی گئی

ورنہ ہاتھ آئی ہوئی دولت کو یوں کھوتا ہے کون

کون یہ پاتال سے لے کر ابھرتا ہے مجھے

اتنی تہہ داری سے مجھ پر منکشف ہوتا ہے کون

کوئی بے ترتیبئ کردار کی حد ہے سلیمؔ

داستاں کس کی ہے زیب داستاں ہوتا ہے کون

سلیم کوثر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے