کیا بنانا تھا کہ کاغذ پہ بنا لیں آنکھیں

کیا بنانا تھا کہ کاغذ پہ بنا لیں آنکھیں
اتنی پیاری تھیں کہ آنکھوں سے لگا لیں آنکھیں

اب تو کہتے ہو کہ بس ایک نظر ایک نظر
کیا کرو گے جو کبھی اس نے اٹھا لیں آنکھیں

ان کی آمد پہ لگا سانس رکی جاتی ہے
دل بچھایا کبھی رستے میں بچھا لیں آنکھیں

جانے کیا سوچ کے پورا نہیں دیکھا ہم نے
جانے کیا سوچ کے اس نے بھی چرا لیں آنکھیں

رک گیا آج کوئی بات جو کرتے کرتے
دونوں ہاتھوں میں صغیر اس نے چھپا لیں آنکھیں

صغیر احمد صغیر

یہ غزل انڈیا میں گائی گئی ہے

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان