وہ جیسے کوہساروں میں ہوا رستہ بناتی ہے

وہ جیسے کوہساروں میں ہوا رستہ بناتی ہے
محبت جو بناتی ہے جدا رستہ بناتی ہے

محبت ہارتی کب ہے محبت گر محبت ہو
محبت کے لیے خلقِ خدا رستہ بناتی ہے

حرا و ثور سے ہوتی ہوئی یہ لامکاں پہنچی
تم اب بھی پوچھتے ہو کیا وفا رستہ بناتی ہے

اشارے سے ہی کر دیتی ہے دو ٹکڑوں میں قلزم کو
ہمیں معلوم ہے کیسے دعا رستہ بناتی ہے

صغیر اکثر خیالوں میں مدینے جا نکلتے ہیں
ہمارے واسطے خاکِ شفا رستہ بناتی ہے

صغیر احمد صغیر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی