خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ

خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ

تعارف غموں سے ہوا رفتہ رفتہ

تھی چہرے کی رنگت تو نظروں کے آگے

چلا رنگ دل کا پتہ رفتہ رفتہ

بھلائی کئے جا یقیں رب پہ رکھ کر

وہ دیتا ہے سب کو صلہ رفتہ رفتہ

سنی بھوکے بچے نے جب ماں کی لوری

تو رو رو کے وہ سو گیا رفتہ رفتہ

ترے بن بھی کٹ جائے گی عمر لیکن

چھڑا اپنا دامن ذرا رفتہ رفتہ

نظر جو ملی دل ہوا راکھ جل کر

دھواں پھر اسی سے اٹھا رفتہ رفتہ

چمن میں کھلیں ہنستے ہنستے جو کلیاں

تو خوشبو سے مہکی فضا رفتہ رفتہ

نہ گھبراؤ موناؔ پریشانیوں سے

اثر لائے گی ہر دعا رفتہ رفتہ

ایلزبتھ کورین مونا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے