ہے نہیں کوئی ناخدا دل کا

ہے نہیں کوئی ناخدا دل کا

دل ہی ہے ایک آسرا دل کا

چار سو بے خودی میں پھرتا ہے

کچھ ٹھکانا نہیں رہا دل کا

رسم دنیا کو کیوں یہ مانے گا

ہے الگ جگ سے قاعدہ دل کا

شیخ و پنڈت کو کوئی سمجھائے

رب سے رہتا ہے رابطہ دل کا

راہ انسانیت ہی اول ہے

ہے یقیناً یہ فلسفہ دل کا

دو جہاں بھی یہاں سما جائیں

کتنا پھیلا ہے دائرہ دل کا

لب تلک آ کے بات ہی بدلی

کیا کرے لفظ ترجمہ دل کا

عقل کب آئے گی تمہیں موناؔ

مانتے کیوں ہو تم کہا دل کا

ایلزبتھ کورین مونا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی