خوش یقیں خوش گمان یعنی تم

خوش یقیں خوش گمان یعنی تم
حسن کی آن بان یعنی تم

آنسووں کا بیان یعنی میں
درد کی داستان یعنی تم

میری پہچان ہیں مرے یہ شعر
میرے شعروں کی جان یعنی تم

بے شجر راہ کا مسافر میں
اور اک سائبان یعنی تم

ایک پتھّر کی کارنس دنیا
کانچ کا پھولدان یعنی تم

کون صحرا میں ہم کلام ہے یہ
سن رہا ہوں اذان ، یعنی تم

کشمکش کے عجیب موڑ پہ ہوں
میرا وہم وگمان یعنی تم

گرد آلود آئینہ میرا
اک خفا مہربان یعنی تم

میں فقط ایک نقطہءِ موہوم
اک مکمل جہان یعنی تم

اک کھُلا آسمان یعنی میں
حوصلوں کی اڑان یعنی تم

ڈاکٹر طارق قمر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے