خمار ایک وہم ہے , خمار کی طلب نہیں

خمار ایک وہم ہے , خمار کی طلب نہیں
مرے دماغ و دل کو اختیار کی طلب نہیں

میں نقش ہوں دھلا ہوا, کِھلا ہوا, کُھلا ہوا
مجھے نمود و نام کے , غبار کی طلب نہیں

پکاریئے شکستگاں , لہو کے اشتعال کو
ہمیں تو اب وصال کے دیار کی طلب نہیں

فنا مری حریف ہے , پرےہی رہ,سنبھل کے رہ
بدن, یہاں مجھے ترے حصار کی طلب نہیں

میں خاک پر پڑا ہوا ہوں انتظار کے سبب
پروں پہ اختیار ہے , پکار کی طلب نہیں

ارشاد نیازی

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا