خود کو بیداد کر کے روئے گا

خود کو بیداد کر کے روئے گا
نیند برباد کر کے روئے گا

میں تجھے یاد کر کے روؤں گی
تو مجھے یاد کر کے روئے گا

مدتوں بعد پنچھی نکلا ہے
خود کو آزاد کر کے روئے گا

خواب دل میں بسانے والے سن
خواب آباد کر کے روئے گا

ظلم کرنا ہے تیری عادت میں
دل کو دل شاد کر کے روئے گا

علمہ ہاشمی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے