کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤ

کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤ
میرے دشمن ہی کہلاؤ

دل سا کھلونا ہاتھ آیا ہے
کھیلو توڑو جی بہلاؤ

کل اغیار میں بیٹھے تھے تم
ہاں ہاں کوئی بات بناؤ

کون ہے ہم سا چاہنے والا
اتنا بھی اب دل نہ دکھاؤ

حسن تھا جب مستور حیا میں
عشق تھا خون دل کا رچاؤ

حسن بنا جب بہتی گنگا
عشق ہوا کاغذ کی ناؤ

شب بھر کتنی راتیں گزریں
حضرت دل اب ہوش میں آؤ

ابنِ صفی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے