کھو جائے تو کہاں

کھو جائے تو کہاں، کبھی خطرہ نہیں گیا
دل سے مرے جدائی کا دھڑکا نہیں گیا

آئے تھے کتنے خواب سنورکرپلک پلک
اشکوں کی بھیڑ میں کوئی دیکھا نہیں گیا

کچھ اس طرح سے بکھرے سخن کے نگر میں ہم
خود کو کسی غزل میں سمیٹا نہیں گیا

یو ں تو تھا اعتماد بہت ہم کلامی پر
اُس سے ہوا جو سامنابولا نہیں گیا

اُس سے کبھی نہ ملنے کا دل میں خیال تھا
دیکھا اُسے تو راستہ بدلا نہیں گیا

تھی آرزو چلوں کبھی تو روشنی کے سنگ
پاؤں طویل شب سے نکالا نہیں گیا

رہ رہ کے زخمی دل کو کرے اک خیال یہ
کہ وقتِ ہجر کیوں مجھے روکا نہیں گیا

احساں ہے دوستوں کا عنایت وفا کی ہے
دل سے غموں کا بوجھ اُتارا نہیں گیا

شبانہ یوسف

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان