خواب مجھ کو نہ دکھایا جائے

خواب مجھ کو نہ دکھایا جائے
عَہدِ تعبیر بھی لایا جائے

آنکھیں ابَ دل میں اُتر جاتی ہیں
کیسے زخموں کو چھُپایا جائے

جن سے ملتا ہے محبت کا سبق
اُن کتابوں کو پڑھایا جائے

جو لہو سے ہوں ہمارے روشن
اُن چَراغوں کو جلایا جائے

کھیت میں چاندنی بوئی جائے
ہر طرف چاند اُگایا جائے

اُن سے کیا آنکھ چرائی جائے
جن سے دامن نہ بچایا جائے

آئینہ خانے ہیں خاموش ولیؔ
کسی وحشی کو بلایا جائے

ولی اللہ ولی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے