خواب کے پہلے جھونکے سے

خواب کے پہلے جھونکے سے
لپٹی بیل دریچے سے

پہلی بارش آئی ہے
تم بھی نکلو کمرے سے

میں نے ہونٹ بھگونے ہیں
چھلکے ہوئے ستارے سے

خوشبو والے آتے ہیں
رنگوں کے دروازے سے

رستہ بنتا جاتا ہے
اس کے چلتے رہنے سے

اپنا حال کہو صاحب
میں بہتر ہوں پہلے سے

تجدید قیصر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی