خاموش عورت

“خاموش عورت "

اتنا وقت بیت گیا ہے
لیکن گزرتے ہوئے ایک تلخ حقیقت
مجھ پر آشکار کر گیا ہے کہ
آج بھی….
آج بھی
میں اک کٹہرے میں کھڑی ہوئی ہوں
تفتیش جاری ہے
سوالوں کے تابڑ توڑ حملے ہیں
لمحہ بہ لمحہ حساب لیا جاتا ہے
مجھ سے میرے ہی بارے میں
پوچھا جاتا ہے
احتساب ابھی بھی ہونا باقی ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
وقت کی عدالت میں
اپنوں کو شکست دلواؤں
یا اپنوں سے ہی شکست کھا جاؤں؟؟
یا جیت کر بھی میں ہار جاؤں؟؟
کہ کئی رشتوں میں بٹی ہوئی ہے ذات میری
نہ جانے…
کہاں جا کے ٹھہرے یہ بات میری

لبنیٰ مقبول غنیمؔ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا