کیسا رستہ ہے کیا سفر ہے

کیسا رستہ ہے کیا سفر ہے
اڑتی ہوئی گرد پر نطر ہے

ڈسنے لگی فاختہ کی آواز
کتنی سنسان دوپہر ہے

آرام کریں کہ راستہ لیں
وہ سامنے اک گھنا شجر ہے

خود سے ملتے تھے جس جگہ ہم
وہ گوشۂ عافیت کدھر ہے

ایسے گھر کی بہار معلوم
جس کی بنیاد آگ پر ہے

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی