جنون عشق کی منزل وہی ہے

جنون عشق کی منزل وہی ہے
جہاں ہر آشنا بھی اجنبی ہے

انہی مجبوریوں نے مارا ڈالا
کہ تیری ہر خوشی میری خوشی ہے

ابھی ہے ان کے آنے کی توقع
ابھی راہوں میں کچھ کچھ روشنی ہے

مری بربادیوں کا پوچھنا کیا
تری نظروں کی قیمت بڑھ گئی ہے

جہاں ان کا سوال آیا ہے باقیؔ
وہاں اپنی کمی محسوس کی ہے

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی