آب مانگو، سراب ملتا ہے

آب مانگو، سراب ملتا ہے
اس طرح بھی جواب ملتا ہے

سینکڑوں گردشوں کے بعد کہیں
ایک جام شراب ملتا ہے

یا مقدر کہیں نہیں ملتا
یا کہیں محو خواب ملتا ہے

جتنا جتنا خلوص ہو جس کا
اتنا اتنا عذاب ملتا ہے

غم کی بھی کوئی حد نہیں باقیؔ
جب ملے بے حساب ملتا ہے

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی