کروں نہ یاد، مگر کس طرح بھلاؤں اُسے

کروں نہ یاد، مگر کس طرح بھلاؤں اُسے
غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے

وہ خار خار ہے شاخِ گلاب کی مانند
میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے

یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے
میں کیسے بات کروں، اب کہاں سے لاؤں اسے

مگر وہ زود فراموش، زود رنج بھی ہے
کہ روٹھ جائے، اگر یاد کچھ دلاؤں اسے

وہی جو دولتِ دل ہے وہی جو راحتِ جاں
تمہاری بات پہ اے ناصحو! گنواؤں اسے

جو ہمسفر سرِ منزل بچھڑ رہا ہے فرازؔؔ
عجب نہیں ہے اگر یاد بھی نہ آؤں اسے

احمد فراز

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان