کمال ضبط کا یہ آخری ہنر بھی گیا

کمال ضبط کا یہ آخری ہنر بھی گیا

میں آج ٹوٹ کے رویا اور اس کے گھر بھی گیا

یہ دکھ ہے اس کا کوئی ایک ڈھب تو ہوتا نہیں

ابھی امڈ ہی رہا تھا کہ جی ٹھہر بھی گیا

عجیب غم تھا قبیلے کے حرف کار کا غم

کہ بے ثمر بھی گیا لفظ ، بے اثر بھی گیا

یہ ایک پل ، یہ مرا دل ، یہ زرد رنگ کا پھول

ابھی کھلا بھی نہیں تھا ، ابھی بکھر بھی گیا

یہ دشت زاد بگولا ، یہ رقص خو درویش

اگر میں ٹھیر گیا تو یہ ہم سفر بھی گیا

سعود عثمانی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا