عجب طلسم ہے دیوار و در میں رکھا ہوا

عجب طلسم ہے دیوار و در میں رکھا ہوا

کہ میرا گھر بھی ہے رختِ سفر میں رکھا ہوا

نہ جانے کب مجھے اذن سفر عطا کردے

میں ایک اشک ہوں اس چشمِ تر میں رکھا ہوا

ہوائے تند سے گُل کو بھی نسبتیں ہیں وہی

یہ اک چراغ ہے طاقِ شجر مین رکھا ہوا

بنا بنا کے مٹاتا ہے شاہ کار مرے

عجیب عیب ہے دستِ ہنر مین رکھا ہوا

بہت دنوں سے اسے میری جستجو ہے سعود

کوئی سفر ہے کسی رہگزر میں رکھا ہوا

سعود عثمانی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا