کبھی سراب کرے گا،کبھی غبار کرے گا

کبھی سراب کرے گا،کبھی غبار کرے گا

یہ دشتِ جاں ہے میاں یہ کہاں قرار کرے گا

ابھی یہ بیج کی مانند پھوٹتا ہوا دکھ ہے

بہت دنوں میں کوئی شکل اختیار کرے گا

یہ خود پسند سا غم ہے سو یہ امید بھی کم ہے

کہ اپنے بھید کبھی تجھ پہ آشکار کرے گا

تمام عمر یہاں کس کا انتظار ہوا ہے

تمام عمر مرا کون انتظار کرے گا

نشے کی طرح محبت بھی ترک ہوتی نہیں

جو ایک بار کرے گا وہ بار بار کرے گا

سعود عثمانی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل