کبھی اندھا کبھی بہرا

کبھی اندھا کبھی بہرا کبھی گونگا بن کر
میں نے رشتوں کے تقدس کو نبھایا اکثر

دستِ معمار قلم کرنے کا بھی اذن ملا
جب ترے پاؤں کی خاطر بنا سنگِ مرمر

کون دن رات مرے صبر سے خائف ہے یہاں
کون دن رات مری راہ میں رکھے پتھر

نیند کو وصل کی نعمت یہ کہاں سونپے گا
مری آنکھوں میں ترے ہجر کا وحشی لشکر

منتظر کب سے کسی گھاٹ پہ اک دوشیزہ
اور مرے لب پہ گھنی پیاس کا سونا منظر

کیوں میں خوش رہنے کی ناکام اداکاری کروں
کیوں مرے گریے کی نسبت ہو پرایا کنکر

وہ تکلف کی اذیت نہ اٹھائے ارشاد
میرے ہاتھوں میں بصد شوق تھمائے خنجر

ارشاد نیازی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے