کبھی آباد تھا یہ شہرِ جاں بھی

کبھی آباد تھا یہ شہرِ جاں بھی
یہیں رہتے تھے وہ کاشف میاں بھی

یہ دُنیا یہ مرے خوابوں کی دُنیا
دھُواں ہو جائے گا کیا یہ دھُواں بھی

یہ میرا دل، یہ آثارِ قدیمہ
کوئی آباد ہو جیسے یہاں بھی

یہاں کچھ بھی نہیں بدلا ہو جیسے
وہی ہم ہیں وہی کارِ جہاں بھی

اگر اِس عشق میں جاں کا زیاں ہے
تو سر آنکھوں پہ جاں کا یہ زیاں بھی

ستارے خواب ہوتے جا رہے ہیں
اُجڑتا جا رہا ہے آسماں بھی

کاشف حسین غائر

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے