ہمِیں سے کرتا رہا گفتگو ہماری طرح

ہمِیں سے کرتا رہا گفتگو ہماری طرح
تھا آئنے میں کوئی ہُو بہُو ہماری طرح

بکھر رہے ہیں ستارے سمٹ رہی ہے رات
بھٹک رہی ہے ہوا کُو بہ کُو ہماری طرح

کسی کے ساتھ نہیں ہے کسی کے ساتھ نہیں
کہ اس ہجوم میں شامل ہے تُو ہماری طرح

کسی کی چاہ نہیں کوئی رسم و راہ نہیں
یہ کس خیال میں رہتا ہے تُو ہماری طرح

یہ زندگی گزراں ہے گزر ہی جائے گی
بس ایک شام گزارو کبھو ہماری طرح

کاشف حسین غائر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی