دُنیا سے وابستہ ہوں

دُنیا سے وابستہ ہوں
آدمی لیکن اچھّا ہوں

نیند پریشاں رہتی ہے
اور میں جاگتا رہتا ہوں

کچھ اپنا اَحوال کھُلے
روز کسی سے ملتا ہوں

شاید کچھ آ جائے یاد
پہروں سوچا کرتا ہوں

وہ میرا ہو جاتا ہے
جس رستے پر چلتا ہوں

کاشف حسین غائر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا