جرمِ حق گوئی میں صدیوں سے

جرمِ حق گوئی میں صدیوں سے سرِ دار ہیں ہم
جو کبھی کم نہیں ہوتا ہے وہ معیار ہیں ہم

تم جو کہتے ہو کہ باقی نہ رہے اہلِ دل
زخم بیچوگے ، چلو بیچو ، خریدار ہیں ہم

کیسے تاریخ فراموش کرے گی ہم کو
تیغ پر خون سے لکّھا ہوا انکار ہیں ہم

خاکِ مرقد بھی تبرّک کی طرح لے گئے لوگ
رسن و دار تو کہتے تھے گنہگار ہیں ہم

مشورہ لیتے ہیں، ہم سوختہ جانوں سے طبیب
شہر کو جاکے بتاتے ہیں کہ بیمار ہیں ہم

آندھیاں ہم سے رہ و رسم کہاں رکھتی ہیں
جانتی ہیں کہ چراغوں کے طرفدار ہیں ہم

انکساری نے عجب شان عطا کی ہم کو
اس طرح خم ہوئے لگنے لگا تلوار ہیں ہم

عمر اپنے ہی تعاقب میں گنوادی طارق
جو کہانی میں نہیں آیا وہ کردار ہیں ہم

ڈاکٹر طارق قمر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے