جڑ کو خود کاٹنا پاتال پہ گریہ کرنا

جڑ کو خود کاٹنا پاتال پہ گریہ کرنا
پیڑ کے پھل سے نہیں چھال پہ گریہ کرنا

جب کسانوں کو بھی دو وقت کا آٹا نے ملے
ان کا بنتا ھے تری چال پہ گریہ کرنا

ہارے لشکر سے ھوں اتنا تو مرا بنتا ھے
تیر، تلوار کبھی ڈھال پہ گریہ کرنا

خواب پنسل کی لکھائی کی طرح پھیلتے ہیں
آنکھ نم ہوئی تو رومال پہ گریہ کرنا

روح کمرے میں نہیں بند ھے الماری میں
پاؤں باہر ہوں تو کیا شال پہ گریہ کرنا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی