خواب،تعبیر سفر میرے سہارے کب تھے

خواب،تعبیر سفر میرے سہارے کب تھے
جو چمکتے تھے وہ جگنو تھے ستارے کب تھے

یہ محبت کا اثر ھے کہ تو دیکھتا ھے مجھے
نقش کاغذ پہ ابھی میں نے اتارے کب تھے

مجھ سے بچھڑے ہیں کڑے وقت میں باری باری
میری ماں سچ ھے مرے دوست یہ سارے کب تھے

اپنی مرضی کہ تجھے چھوڑ دیا ھے تجھ پر
ہم وہ مورکھ ہیں جو تقدیر سے ہارے کب تھے

شہر آباد رہیں اور تو آباد رہے
ہم تو بنجارے ہیں یہ شہر ہمارے کب تھے

رانا عثمان احامر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی