جون کا میں درد ہوں

جون کا میں درد ہوں ناصر کی میں آواز ہوں
زیب میرا نام ہے پر میر کا انداز ہوں

رونقِ بزمِ حنا کا میں تو یہ اعجاز ہوں
بےمروّت جتنا ہوں اتنا سخن پرداز ہوں

مے کدے کی محفلوں کی جان ہیں میرے یہ شعر
بس اسی کارن سبھی میں اس قدر ممتاز ہوں

میں تھپک کے ہاں سلایا تو گیا یعنی صنم
میں تو دشتُ دریا کے طوفان کا ہمراز ہوں

بےکلی میں کیا حلاوت ہے؟ بتاوں کیا تمہیں
یوں سمجھ لو اس حلاوت کا کھنکتا ساز ہوں

اپنی تصویرِ جنوں کو دیکھ کر سمجھا کہ میں
تو مقلد جون کا ہوں_ درد کا ہم راز ہوں

محمد شاہ زیب احمد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے