کچھ حیا اور کچھ محبت کچھ وفا بھی ہوتی ہے
عشق والوں کے لیے تو کچھ دعا بھی ہوتی ہے
میرے اشکوں کو دکھاوہ کہنے والے غور کر
روز ان کی کچھ نہ کچھ قیمت ادا بھی ہوتی ہے
شعر عمدہ ہے تو اب عمدہ بھی کہنے دو مجھے
لفظ میں دل بستگی کی انتہا بھی ہوتی ہے
اب فقط اتنا کہوں گا خامشی ہے سب جواب
بعد اس کے ڈوب مرنے کی سزا بھی ہوتی ہے
محمد شاہ زیب احمد