جو تیرے ساتھ بِتانے کو وقت مل جاتا

جو تیرے ساتھ بِتانے کو وقت مل جاتا
قبائے درد کا ہر ایک زخم سل جاتا

وہ جس طریقے سے جانے کا کہہ رہا تھا مجھے
اگر پہاڑ سے کہتا تو سن کے ہل جاتا

تمہارے بعد خزاؤں نے مجھ کو گھیر لیا
تمہارے بعد میں کیسے کہیں پہ کِھل جاتا

تری گلی تو شبستاں سے ملتی جلتی ہے
تری گلی سے کوئی کیسے مضمحل جاتا

مرا کمال کہ روکا ہے اس کو جاتے ہوئے
وہ میرے ہاتھ سے جاتا تو مستقل جاتا

منیر اس کو سہولت تو یہ مسیر تھی
وہ سانس مجھ میں اگر کر کے منتقل جاتا

منیر انجم

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی