آس پر مر مٹے تھے سارے خواب

آس پر مر مٹے تھے سارے خواب
کتنے سادہ تھے میرے اندھے خواب

آنکھ تعبیر کھینچ لائی تھی
خوف سے زرد ہو گئے تھے خواب

صرف دیوار ہی حقیقت ہے
کھڑکیاں وہم ہیں دریچے خواب

اب طبیعت بحال ہے میری
ملنے آئے تھے کچھ پرانے خواب

کارِ الفت میں سود ملتا ہے
نیند آدھی ہے اور پورے خواب

ایک ہی جست میں گری تعبیر
میں نے بٹوے سے جب نکالے خواب

تیری تکمیل یونہی ممکن ہے
زندگی! پال لے، ادھورے خواب

کلیم باسط

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی